Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچی کا نام "حائقہ" رکھنا
- Fatwa no.
- 3921-WAT
- Issued
- 15 ذوالحجۃ الحرام 1446 هـ / 12 جون 2025ء
Question
بچی کا نام "حائقہ " رکھنا کیسا ؟ جواب بچی کا نام "حائقہ "رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
حائقہ کا معنی ہے " احاطہ کرنے والی ، یہ نام رکھنا شرعاً جائز ہے ۔ البتہ ! بہتر یہ ہے کہ اس نام کے بجائے ازواج مطہرات و صحابیات و صالحات رضی اللہ عنھن کے ناموں پر نام رکھا جائے کہ اچھوں کے نام پر نام رکھنا مستحب ہے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور اس سے امید ہے کہ ان اچھوں کی برکت بچی کے شامل حال رہے گی ۔ تاج العروس میں ہے "{حاق بِهِ الشَّيء} يحيق{حيقاً}وحيوقاً{وحيقانا الأخير بِالتَّحْرِيكِ أحَاطَ بِهِ فَهُوَ حائق۔" (تاج العروس، جلد 25، صفحہ 211، مطبوعہ کویت) الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخیار کم "ترجمہ : اچھوں کے نام پر نام رکھو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.