Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچی کا نام ہبہ حیات رکھنا
- Fatwa no.
- 3917-WAT
- Issued
- 17 ذو الحجۃ الحرام 1446ھ /14 جون 2025ء
Question
بچی کا نام " ہبہ حیات " رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا بیٹی کا نام "ہبہ حیات " رکھ سکتے ہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
ہبہ حیات " نام رکھنا جائز ہے ، ہبہ کے معنی ہیں : " عطا، بخشش و غیرہ " اور حیات کا معنی ہے : "زندگی"۔ البتہ ! یہ یادر ہے کہ بچہ ہو یا بچی ، ان کے نام اچھوں کے نام پر رکھنا مستحب ہے کہ حدیث پاک میں اس کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ بچہ ہو تو سب سے بہتر ہے کہ اولا اس کا نام محمد رکھا جائے تاکہ اس کی احادیث میں بیان کردہ فضیلتیں حاصل ہوں اور پھر پکارنے کے لیے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام یا صحابہ کرام علیہم الرضوان یا اولیاء وصالحین علیہم الرحمہ کے ایسے ناموں پر نام رکھیں ، جو ان کے ساتھ خاص نہ ہوں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.