Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکوٰۃ کے پیسوں سے جہیز کا سامان بنوانا
- Fatwa no.
- 3916-WAT
- Issued
- 17 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ /14 جون 2025ء
Question
زکوۃ کے پیسوں سے جہیز کا سامان بنوانا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا کسی لڑکی کو اس کے جہیز کا سامان کل یا کچھ چیزیں زکوۃ کے پیسوں سے دلوانا جائز ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر وہ لڑکی شرعی فقیر ہے اور سیدہ یا ہاشمیہ بھی نہیں ہے (علوی اور اعوان بھی ہاشمی خاندان میں شامل ہیں ) اور اپنی فروع سے بھی نہیں (یعنی زکاۃ دینے والے کی اولاد میں سے نہیں جیسے اس کی بیٹی یا پوتی ، پڑپوتی، نواسی، پر نواسی وغیرہ نہیں) تو اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں، اب چاہے اسے زکوۃ میں رقم دے دیں یا سامان خرید کر دے دیں ، سامان کی صورت میں جتنا سامان دینا ہے اس کی جو مارکیٹ ویلیو ہوگی وہ زکوۃ میں شمار ہوگی ، لانے لیجانے میں جو کرایہ وغیرہ آئے گا، وہ شامل نہیں ہوگا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.