Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچے کا نام " قدیر" رکھنا

Answered by
مولانا محمد سعید عطاری مدنی
Fatwa no.
3914-WAT
Issued
14 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ / 11 جون 2025ء

Question

بچے کا نام "قدیر" رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لفظ عبد کے بغیر بچے کا نام "قدیر" رکھنا کیسا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

صرف قدیر نام رکھنے کی اجازت نہیں، اگر یہ نام رکھنا ہے تو پھر لفظ "عبد" کے ساتھ عبدالقدیر رکھا جائے اور ضروری ہے کہ اسے عبد القدیر ہی پکارا جائے ، لیکن ہمارے ہاں عام طور پر لوگ اس طرح کے نام والے کو لفظ "عبد" کے بغیر پکارتے ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ ایسی جگہ پر یہ نام نہ رکھا جائے ۔ مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خان علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا : چند نام جیسے عبد القادر، عبد القدیر اور عبد الرزاق ۔ ان میں لفظ عبدہ چھوڑ کر نام لینا کیسا ہے ؟ " تو اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا : " ایسے ناموں سے لفظ عبد کا حذف بہت برا ہے اور کبھی ناجائز و گناہ ہوتا ہے اور کبھی سرحد کفر تک بھی پہنچتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.