Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چوری شدہ مال واپس کرنے کے متعلق تفصیل
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3913-WAT
- Issued
- 14 ذوالحجۃ الحرام 1446 هـ / 11 جون 2025 ء
Question
چوری شدہ مال واپس کرنے کے متعلق تفصیل دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی نے کوئی چیز چرالی ہو اور پھر وہ واپس کرنا چاہتا ہو لیکن اس کے مالک کا پتہ نہ ہو تو وہ کیا کرے ؟ جواب
Answer (beginning)
چوری کرنا نا جائز و حرام کام ہے ، جس سے سچے دل کے ساتھ تو بہ کرنالازم ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جو چیز چوری کی وہ چیز واپس لوٹا نالازم ہے ، جس کی چیز ہے اس کو دے ، وہ نہ رہے تو اس کے ورثہ کو دے ، اور اگر کسی کا پتا نہ چل پائے تو فقیر شرعی پر صدقہ کر دے ۔ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : "جو مال رشوت یا تغنی یا چوری سے حاصل کیا ، اس پر فرض ہے کہ جس جس سے لیا اُن پر واپس کر دے ، وہ نہ رہے ہوں اُن کے ورثہ کو دے ، پتا نہ چلے تو فقیر وں پر تصدق کرے ، خرید و فروخت کسی کام میں اس مال کا لگانا حرام قطعی ہے ، بغیر صورت مذکورہ کے کوئی طریقہ اس کے وبال سے سبکدوشی کا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.