Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چھوٹے بچے کو استنجا کروانے سے وضو نہ ٹوٹنے کا مسئلہ

Answered by
ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
Fatwa no.
3911-WAT
Issued
14 ذوالحجۃ الحرام 1446 هـ / 11 جوان 2025 ء

Question

چھوٹے بچے کو استنجا کر وانے سے وضو نہ ٹوٹنے کا مسئلہ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا چھوٹے بچے کو استنجا کر وانے (اس کی شرمگاہ ہاتھ سے دھونے) سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

چھوٹے بچے کو استنجا کر وانے (اس کی شرمگاہ ہاتھ سے دھونے) سے ہمارے (احناف کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹتا؛ کیونکہ ہمارے نزدیک اپنی یا دوسرے کی شرمگاہ چھونا شرعاً ناقض وضو نہیں ۔ البتہ ! اس کے بعد نئے سرے سے وضو کر لینا مستحب ہے؛ کہ شوافع کے نزدیک ہتھیلی یا کسی انگلی کے پیٹ کے ساتھ کسی انسان (مردیا عورت، بچہ یا بچی کی اگلی یا پچھلی شرمگاہ چھو جائے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور جس بات سے کسی امام مجتہد کے مذہب میں وضو ٹوٹ جاتا ہے ، اس کی وجہ سے ہمارے مذہب میں دوبارہ وضو کرنا مستحب ہوتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.