Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر تکبیر چھوڑنے کا حکم
- Answered by
- ابوالفیضان مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3910-WAT
- Issued
- 09 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ / 06 جون 2025ء
Question
ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر تکبیر چھوڑنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) جو جانور بغیر شرعی طریقہ کے ساتھ ذبح کیا گیا ہو، یعنی جان بوجھ کر تکبیر چھوڑ دی، ایسا گوشت جان بوجھ کر کھانا کیسا اور اگر کھا لیا تو کیا کریں ؟ جواب
Answer (beginning)
جس جانور کو ذبح کرتے ہوئے جان بوجھ کر تکبیر چھوڑ دی جائے ، وہ جانور حلال نہیں رہتا ، بلکہ اُس کا کھانا شر عاحرام ہو جاتا ہے ۔ معاذ اللہ ، اگر کوئی معلوم ہونے کے باوجود ایسا جانور کھائے تو اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرے اور آئندہ ایسا کھانا کھانے سے گریز کرے ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے " ولا تحل ذبيحة تارك التسمية عمدا " ترجمہ : جان بوجھ کر تسمیہ کو چھوڑنے والے کا ذبیحہ حلال نہیں ہوتا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.