Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فاسق و فاجر کے ذبیحہ کا حکم

Answered by
ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
Fatwa no.
3908-WAT
Issued
09 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ / 06 جون 2025ء

Question

فاسق و فاجر کے ذبیحہ کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فاسق و فاجر کا ذبیحہ حلال ہے ؟ زید کے گھر کے پاس ایک شخص شراب بیچتا ہے زید کہتا ہے کہ میں اس شخص کے ذبیحہ کو حرام تو نہیں کہتا لیکن احتیاطا استعمال بھی نہیں کرتا کیونکہ وہ شراب کا کام کرتا ہے ۔ جواب

Answer (beginning)

جی ہاں! فاسق و فاجر اگر ذبح شرعی کے اصولوں کے مطابق ذبح کرتا ہے تو اس کا ذبیحہ حلال ہے، لہذا شرابی بیچنے والا اگر شرعی اصولوں کے مطابق جانور ذبح کرے تو جانور حلال ہو جائے گا لیکن اس کے اس برے فعل کی وجہ سے کوئی اس کے ذبح شدہ جانور کو استعمال نہیں کرتا تو اس وجہ سے اس پر کوئی حکم لاگو نہیں ہوتا جبکہ اس کے شرعی اصولوں کے مطابق ذبح کیے گئے جانور کو حرام نہ سمجھتا ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.