Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیوی کے بدن کو بوسہ دینے کے متعلق تفصیل
Question
بیوی کے بدن کو بوسہ دینے کے متعلق تفصیل دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) مرد اپنی بیوی کا کتنا حصہ چوم سکتا ہے اور کتنا حصہ چومنے کی اجازت نہیں ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
شریعت مطہرہ نے فطری رغبت، طبعی لذت اور افزائش نسل وغیرہ کے پیش نظر شرم و حیا اور حدود شرع کی پاسداری کے ساتھ میاں، بیوی کو باہمی تعلقات قائم کرنے کی اجازت دی ہے ۔ اس تعلق میں بوسہ لینا (چومنا) بھی شامل ہے ، لہذا شوہر اپنی بیوی کے تمام بدن کا بوسہ لے سکتا ہے ، سوائے شرمگاہ کے ؛ کہ یہ خلاف مروت، طبعاً قابل نفرت اور اسلامی حیا کی اعلی اقدار کے مخالف ہے ، جبکہ اسلام ہر حال میں شرم وحیا اپنائے رکھنے کا درس دیتا ہے ، یہاں تک کہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھنا ، جائز ہونے کے باوجود نا مناسب اور خلاف ادب قرار دیا گیا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.