Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نیند کی حالت میں کلمہ کفر نکل جانے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3898-WAT
- Issued
- 06 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ / 03 جون 2025ء
Question
نیند کی حالت میں کلمہ کفر نکل جانے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) نیند کی حالت میں اگر کلمہ کفر نکل جائے تو کیا حکم ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
نیند کی حالت میں اگر کلمہ کفر نکل جائے تو اس کی وجہ سے کوئی حکم نہیں لگتا ۔ نور الانوار میں ہے ”فلو طلق او اعتق او اسلم او ارتد فى النوم لا يثبت حکم شيئ منه "ترجمہ : اگر نیند کی حالت میں طلاق دی، یا غلام آزاد کیا، یا اسلام لایا ، یا ارتداد اختیار کیا تو ان میں سے کچھ بھی ثابت نہیں ہوگا ۔ (نورالانوار، حکم قرار قائم، صفہ 4 29. مطبوعہ لاہور) بہار شریعت کے ضمیمہ میں ہے "نائم کی (یعنی سونے والے کی) طلاق اور اس کا ارتداد نافذ نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.