Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ہیرے جواہرات کی زکاۃ کے متعلق تفصیل
- Answered by
- مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3897-WAT
- Issued
- 06 ذوالحجۃ الحرام 1446هـ / 03 جون 2025ء
Question
ہیرے جواہرات کی زکاۃ کے متعلق تفصیل دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ڈائمنڈ وغیر ہ جواہرات اگر مال تجارت ہوں تو کیا ان کی زکو لازم ہوگی ؟ جواب
Answer (beginning)
ہیرے جواہرات اگر مال تجارت ہوں اور زکوۃ کی دیگر شرائط بھی پائی جائیں تو ان پر زکوۃ لازم ہوگی ۔ اور اگر ہیرے جواہرات مال تجارت نہ ہوں تو پھر ان پر زکاۃ نہیں ہوگی ۔ تنویر الابصار و در مختار میں ہے ”(لازکاة في اللآلئ والجواهر) وإن ساوت ألفا اتفاقا (إلا أن تكون للتجارة) والأصل أن ماعدا الحجرين و السوائم إنمایز کی بنیة التجارة ترجمہ : موتیوں اور جواہرات (قیمتی پتھروں)، میں بالاتفاق زکوۃ نہیں ہے اگر چہ وہ ہزاروں کے ہوں ، سوائے یہ کہ وہ تجارت کے لیے ہوں ، اور اصل یہ ہے کہ سونا چاندی اور چرنے والے جانوروں کے علاوہ جو کچھ ہے ان کی زکوۃ صرف تب دی جائے گی ، جب انہیں تجارت کی نیت سے خریدا ہو ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.