Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسجد کی بجلی سے امام اور دوسرے لوگوں کا موبائل چارج کرنا
- Answered by
- مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3893-WAT
- Issued
- 02 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ / 30 مئی 2025ء
Question
مسجد کی بجلی سے امام اور دوسرے لوگوں کا موبائل چارج کرنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) مسجد کی بجلی چندے سے چلتی ہے ، کیا اس میں امام یا مؤذن مو بائل چارج کر سکتے ہیں ، اور دوسروں کو بھی اجازت دے سکتے ہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
امام و مؤذن حضرات تو مسجد کی بجلی سے اپنا موبائل چارج کر سکتے ہیں، کیونکہ مسجد کی بجلی مسجد کی ضروریات اور مصالح کے لیے ہوتی ہے اور امام و مؤذن مسجد کے مصالح و ضروریات میں سے ہیں ، لہذا ان کی معقول ضروریات، مسجد کی ضروریات ہی ہوں گی، مزید یہ کہ مسجد کی بجلی کو امام و مؤذن حضرات کے اپنی ضروریات و سہولیات میں استعمال کرنے پر غرف بھی ہے ۔ البتہ عام نمازی حضرات کو مسجد کی بجلی سے موبائل چارج کرنے کی ہر گز اجازت نہیں ، کیونکہ عام نمازیوں کا مسجد کی بجلی سے موبائل چارج کرنا ، مسجد کی بجلی کو خلاف مصرف میں استعمال کرنا ہے جو کہ شرعاً ناجائز وگناہ ہے، لہذا امام یا مؤذن دوسروں کو مسجد کی بجلی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.