Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ضرورت کی فصل پرعشر کا حکم
- Fatwa no.
- 3892-WAT
- Issued
- 02 ذوالحجۃ الحرام 1446هـ /30 مئی 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
ضرورت کی فصل پر عشر کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا عشر ضرورت کی فصل پر لگے گا یا صرف منافع کی فصل پر لگے گا ؟ جواب
Answer (beginning)
عشری زمین سے ایسی چیز پیدا ہوئی جس کی زراعت سے مقصود زمین سے منافع حاصل کرنا ہو، تو اس زمین سے حاصل ہونے والے منافع پر عشر یا نصف عشر لازم ہوگا ، خواہ یہ منافع ضرورت کے لئے ہوں یا ضرورت سے ہٹ کر نفع کمانے کے لئے ہوں، بہر حال عشر یا نصف عشر کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے "زكاة الزرع فرض،شرط المحلية، وهو أن تكون عشرية ووجود الخارج، وأن يكون الخارج منها مما يقصد بزراعته نماء الأرض هكذا في البحر الرائق، ملتقطاً" ترجمہ : کھیتی کی زکوۃ (یعنی عشر) کی ادائیگی فرض ہے ، اور محل کے اعتبار سے ادائیگی لازم ہونے کی شرط یہ ہے کہ زمین عشری ہو اور پیدوار کا حصول ہو ، اور اس پیدوار کی زراعت سے زمین…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.