Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچی کا نام عتیقہ رکھنا

Answered by
مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
Fatwa no.
3890-WAT
Issued
05 ذوالحجۃ الحرام 1446 هـ / 02 جون 2025ء

Question

بچی کا نام عقیقہ رکھنا کیسا ؟ جواب بچی کا نام عقیقہ رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

" حقيقة "الف " حقیق " کی مؤنٹ ہے، اور تحقیق " کا معنی ہے "پرانا ، اونچی ذات کا ، شریف، قابل تحریم "۔ ان معافی کے لحاظ سے بچی کا نام "عقیقہ " رکھنا جائز ہے ۔ القاموس الوحید میں ہے "العقیق : پرانا، اونچی ذات کا ، شریف ، قابل تکریم ۔ " (القاموس الوحید، ص 1044، مطبوعہ لاہور) وَاللَّهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُه أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم مجیب : مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی فتوی نمبر : 3890-WAT تاریخ اجراء : 05 ذوالحجۃ الحرام 1446 هـ / 02 جون 2025ء 202502/1446); DaruliftaAhlesunnat دار الافتاء الهالات Dar-ul-IftaAhlesunnat…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.