Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گردن اور کانوں کے مسح کے لئے دوبارہ ہاتھ تَر کرنا

Fatwa no.
3888-WAT
Issued
05 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ /02 جون 2025ء

Question

گردن اور کانوں کے مسح کے لئے دوبارہ ہاتھ تر کرنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) وضو میں سر کا مسح کرنے کے بعد گردن اور کانوں کے مسح کے لیے ہاتھ دوبارہ تر کرنا کیسا؟ جواب

Answer (beginning)

وضو میں سر کا مسح کرنے کے بعد گردن اور کانوں کے مسح کے لیے ہاتھ دوبارہ تر کر ناضروری نہیں ہے جبکہ پہلی تری موجود ہو۔ لیکن اگر کسی نے پہلی تری موجود ہونے کے باوجود دوبارہ ہاتھ تر کر لیے تو اس میں حرج بھی نہیں ہے ، بلکہ یہ اچھا ہے کہ اس میں ان فقہاء کرام کے نزدیک بھی سنت پر عمل ہے جو فرماتے ہیں کہ کانوں کے مسح کے لیے دوبارہ ہاتھ تر کیے جائیں۔ نیز یہ یادر ہے کہ اگر سر کے مسح کے دوران انگلیوں کی تری ختم ہو گئی تو اب کانوں کے مسح کے لیے نیا پانی لینا ضروری ہو جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.