Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نیل پاؤڈر والے پانی سے وضو و غسل کا حکم

Answered by
مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
Fatwa no.
3887-WAT
Issued
05 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ / 02 جون 2025ء

Question

نیل پاؤڈر والے پانی سے وضو و غسل کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) نیل پاؤڈر جو کپڑوں میں استعمال ہوتا ہے ، وہ اگر صاف پانی میں مل جائے تو اس سے وضو و غسل کا کیا حکم ہے؟ جواب

Answer (beginning)

شریعت مطہرہ کی رُو سے جب صاف پانی میں کوئی ایسی چیز ملائی جائے کہ جس سے مقصود جسم یا کپڑوں سے میل صاف کرنا ہو یا زیادت نظافت (مثلاً کپڑے کو مزید اُجلا کرنا ، نکھارنا وغیرہ) ہو، تو اس سے وضو و غسل جائز ہے ، اگر چہ اس سے پانی کا کوئی وصف (رنگ، بو یا ذائقہ) تبدیل ہو جائے کہ اسے پانی ہی کہا جائے گا، جبکہ پانی کی رقت و سیلان (بہاؤ) میں کوئی فرق نہ آئے ۔ مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں دیکھا جائے ، تو پانی میں ڈالا جانے والا نیل پاؤڈر محض کپڑے میں ہلکا سا نیلا پن دینے کے لئے ہوتا ہے جو حقیقتا کپڑے ہی کی پیلاہٹ کو دور کرنے اور سفیدی کو نمایاں و نکھارنے کے لئے ہوتا ہے ، نیز اس سے پانی کی رقت و سیلان…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.