Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بغل کھجانے کے بعد وضو کا حکم
- Fatwa no.
- 3881-WAT
- Issued
- 03 ذوالحجۃ الحرام 1446 هـ / 31 مئی 2025. دار الافتاء اهلسنت
Question
بغل کھجانے کے بعد وضو کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا بغل کھجانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
بغل کھجانے سے احناف کے نزدیک وضو تو نہیں ٹوٹا، البتہ ! بغل کھجانے سے وضو مستحب ہے جبکہ اس میں بد بو ہو ۔ ۔ فتاوی رضویہ میں ہے " بغل کھجانے سے وضو مستحب ہے جبکہ اس میں بدبو ہو ۔ “ (فتاوی رضویہ ، ج 1، حصہ ب، ص 972، رضا فاؤنڈیشن، لاهور) عجیب : مولانا محمد آصف عطاری مدنی فتوی نمبر : 3881-WAT وَاللَّهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم تاریخ اجراء : 03 ذوالحجۃ الحرام 1446 هـ / 31 مئی 2025.
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.