Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

لڑکی کا نام زمر رکھنا

Answered by
مولانا اعظم عطاری مدنی
Fatwa no.
3876-WAT
Issued
01 ذو الحجۃ الحرام 1446ھ /29 مئی 2025ء

Question

کیا لڑکی کا نام زمر رکھ سکتے ہیں ؟ جواب لڑکی کا نام زمر رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

زمر " جمع ہے اور اس کی واحد " الزمرۃ" ہے جس کا معنی ہے : اگر وہ ، جماعت ، فوج ۔ " لہذا اس لفظ کو بطور نام رکھا جاسکتا ہے ، لیکن بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں ، نانیوں، دادیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، نیز امید ہے کہ ایسا کرنے سے ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہوگی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.