Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسجد کا غیر استعمالی قالین مدرسے میں دینا
- Answered by
- مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3874-WAT
- Issued
- 30 ذو القعدة الحرام 1446ء 28 مئی 2025ء
Question
مسجد کا غیر استعمالی قالین مدرسے میں دینا دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) مسجد میں کمیٹی نے چندہ جمع کر کے نیا قالین بچھوا دیا ہے ، جبکہ پہلے والا قالین مسجد کے اسٹور میں رکھا ہوا ہے اور مسجد کو اس کی حاجت نہیں ، اور اسی طرح پڑے رہنے سے اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو کیا یہ قالین اسی علاقے میں بچیوں کے مدرسے کو دیا جا سکتا ہے ، جس کو اس کی حاجت بھی ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر مسجد کو حاجت نہیں اور آئندہ کے لیے محفوظ رکھنے میں اس کے ضائع ہو جانے کا ندیشہ ہو تو اس قالین کو مسجد کی انتظامیہ فروخت کر کے اس کی قیمت کو مسجد کی ضروریات میں صرف کر سکتی ہے اور مدرسے کی انتظامیہ کو اگر اس کی حاجت ہو، تو وہ مسجد کو اس کی قیمت ادا کر کے مدرسے میں استعمال کر سکتے ہیں، بغیر قیمت کے مدرسے میں نہیں دے سکتے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ : "مسجد کی کوئی چیز مسجد کے کام سے فاضل ہو اور وہ چیز اس مسجد کے کام میں آنے کی نہیں ہے اور وہ چیز ایسی ہے کہ کثر مدت تک بے کار رہنے سے نقصان ہونے کا اندیشہ ہے تو ایسی صورت میں وہ چیز بیچ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.