Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عشاء کی نماز کے بعد کچھ دیر سو کر تہجد پڑھنا
- Fatwa no.
- 3873-WAT
Question
عشاء کی نماز کے بعد کچھ دیر سوکر تہجد پڑھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) عشاء کی نماز کے تھوڑی دیر بعد سو کر تہجد پڑھ سکتے ہیں یا فجر سے تھوڑی دیر پہلے پڑھنا ضروری ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
تہجد کی نماز کے لیے عشاء کے فرضوں کے بعد سونا شرط ہے ، لہذا جو نماز عشاء کے بعد کچھ دیر کے لیے سو گیا وہ اٹھنے پر طلوع فجر سے پہلے تہجد پڑھ سکتا ہے، چاہے کوئی سا بھی وقت ہو ، اس سے معلوم ہوا تہجد کا فجر سے تھوڑی دیر پہلے ہونا ضروری نہیں، بلکہ مذکورہ شرط کے ساتھ رات کے کسی حصے میں بھی تہجد پڑھی جا سکتی ہے ، ہاں ! بہتر وقف آدھی رات کے بعد والا ہے ۔ المعجم الکبیر میں ہے " عن الحجاج بن عمرو بن غزية صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: انما التهجد المرء يصلى الصلاة بعد رقدة "ترجمہ : حجاج بن عمر و بن غزیہ رضی اللہ عنہ جو صحابی رسول ہیں، ان سے مروی ہے : آپ فرماتے ہیں کہ تہجد یہ ہے کہ بندہ قدرے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.