Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بہن کے گھر نہ جانے کی قسم کھانے کے متعلق تفصیل
Question
بہن کے گھر نہ جانے کی قسم کھانے کے متعلق تفصیل دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میرے شوہر نے مجھے اپنی ہمشیرہ کے گھر جانے سے منع کیا اور کہا قسم کھاؤ، تو میں نے کہا میں قرآن کی قسم کھاتی ہوں کہ آئندہ اپنی ہمشیرہ کے گھر نہیں جاؤں گی لیکن اب میں بہت پریشان ہوں میں اپنی بہن کے گھر جانا چاہتی ہوں اسے میری ضرورت ہے اور اب میرے شوہر نے بھی مجھے اجازت دے دی ہے تو رہنمائی فرمائیں کہ میں نے جو جملہ بولا اس سے قسم ہو گئی ؟ اگر ہو گئی ہے تو اس کا اب کیا حل ہے؟ جواب
Answer (beginning)
دریافت کردہ صورت میں آپ نے جو یہ جملہ بولا کہ میں قرآن کی قسم کھائی ہوں کہ آئندہ اپنی ہمشیرہ کے گھر نہیں جاؤں گی اس سے شرعی طور پر قسم واقع ہو چکی ہے کہ قرآن کی قسم کھانا بھی شر عاقسم ہے ۔ اور جب کوئی کسی بات پر قسم اٹھا لے اور اس قسم کا خلاف اس کے لئے بہتر ہو تو اسے چاہیے کہ اپنی قسم توڑ دے اور وہ کام کر گزرے جبکہ شرعا اس میں کوئی قباحت نہ ہو اور پھر قسم کا کفارہ ادا کر دے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.