Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حرام کھانے والاعبادت کرے یا نہ کرے؟

Fatwa no.
3865-WAT
Issued
26 ذو القعدة الحرام 1446ھ /24 مئی 2025ء

Question

حرام کھانے والا عبادت کرے یا نہ کرے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) جو بندہ رشوت یا سو دلیتا ہے تو کیا وہ عبادت نہ کرے ؟ کیونکہ حدیث میں ہے کہ جو بندہ حرام کھاتا ہے ، اس کے چالیس دن کے عمل قبول نہیں ہوتے ۔ جواب

Answer (beginning)

احادیث طیبہ میں یہ مضمون موجود ہے کہ جو بندہ حرام کا ایک لقمہ کھاتا ہے ، تو چالیس راتوں تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ انسان کو حرام کھانے پر دوسری سزا کے ساتھ ساتھ ) یہ سزا بھی ملتی ہے کہ اتنے دنوں کی نمازوں کو محنت و مشقت سے ادا کرنے کے باوجود وہ ان کے اجر و ثواب سے محروم رہتا ہے ، لہذا اسے چاہیے کہ حرام کھانا ترک کر دے تاکہ دوسری سزا سے بھی بچے اور نمازوں پر ثواب بھی حاصل ہو، یہ مطلب نہیں کہ اب بندے پر وہ نمازیں فرض ہی نہ رہیں ، بلکہ اب بھی اس پر نمازیں فرض ہی ہوں گی ، اور اگر تمام شرائط و فرائض کے ساتھ ان عبادات کو ادا کرے گا تو وہ ادا بھی ہو جائیں گی، البتہ ! ایسا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.