Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام کے سلام پھیرنے کے بعد مسبوق کا بغیر تکبیر کہے کھڑا ہونا
- Fatwa no.
- 3864-WAT
- Issued
- 26 ذو القعدة الحرام 1446ء 24 مئی 2025 ء
Question
امام کے سلام پھیرنے کے بعد مسبوق کا بغیر تکبیر کہے کھڑا ہونا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) امام نے جب سلام پھیرا تو مسبوق بغیر تکبیر کہے کھڑا ہوگیا تو کیا حکم ہوگا اور تکبیرات انتقالات واجب ہیں یا سنت؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں مسبوق کی نماز ہو جائے گی کہ تکبیرات انتقالات سنت ہیں، ان کے رہ جانے سے سجدہ سہو یا اس نماز کا اعادہ لازم نہیں ہوتا ۔ المبسوط للسرخسی میں ہے " تكبيرة الانتقال سنة "ترجمہ : تكبير انتقال سنت ہے ۔ (المبسوط للسرخسی ، ج 1 ، ص 220، دار المعرفۃ، بیروت) فتح القدیر میں ہے " (قوله لا يجب إلا بترك واجب) فلا يجب بترك التعوذ والبسملة في الأولى و الثناء وتكبيرات الانتقالات ترجمہ : مصنف کا جو قول ہے کہ سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا مگر کسی واجب کے ترک کرنے سے تو اس سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ پہلی رکعت میں تعوذ و تسمیہ ترک کرنے اور ثنا ترک کرنے اور تکبیرات انتقالات ترک کرنے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہو…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.