Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جہیز کی شرعی حیثیت
- Answered by
- مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3863-WAT
Question
جہیز کی شرعی حیثیت دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) دلہن والے اپنی بچیوں کو منع کرنے کے باوجود جہیز دینا چاہ رہے ہیں ، جہیز میں، گھر میں روز مرہ کے طور پر استعمال ہونے والی چیزیں ہیں ، وہ خوشی سے گفٹ سمجھ کر اپنی بیٹیوں کو دینا چاہتے ہیں، تو کیا یہ لینا جائز ہے ؟ کیا سر کار صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہزادی کو بھی جہیز دیا تھا؟ جواب
Answer (beginning)
شادی کے موقع پر لڑکی والوں سے رقم یا جہیز وغیرہ کا مطالبہ کرنا، اور اس کے بغیر رشتہ نہ دینا ، ناجائز اور رشوت کے حکم میں ہے ۔ البتہ اگر لڑکی والے اپنی خوشی سے جہیز دینا چاہتے ہیں، تو شر عالینے میں کوئی مضائقہ نہیں، جائز ہے ۔ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے بھی اپنی پیاری شہزدی حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو جہیز عطا فرمایا تھا ۔ فتاوی فیض الرسول میں ہے لڑکا یا اس کے گھر والوں کا ، شادی کرنے کے لئے نقد روپیہ اور سامان جہیز مانگنا، یا موٹر سائیکل اور جیپ و کار وغیرہ کا مطالبہ کرنا حرام و ناجائز ہے ، اس لئے کہ وہ رشوت ہے ۔ ۔ ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.