Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
یہ کہنا کہ فلاں شخص یا اس کا پاؤں بھاری ہے
Question
یہ کہنا کہ فلاں شخص یا اس کا پاؤں بھاری ہے دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میرا یہ سوال ہے کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ فلاں بندہ بھاری ہے ، یا اس کا پاؤں بھاری ہے یا اس کا ہاتھ بھاری ہے ، یہ دکان میں آئے گا تو سیل (یعنی دکان داری) اچھی نہیں ہوگی یا گھر میں آئے گا تو کوئی نہ کوئی نقصان ہوگا وغیرہ وغیرہ ، تو اس بارے میں شرعی رہنمائی فرما دیں ۔ جواب
Answer (beginning)
یہ سب باتیں جہالت ہیں، کیونکہ یہ بد شگونی سے تعلق رکھتی ہیں، اور اسلام میں بدشگونی اور نحوست کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ لہذا اللہ پاک کی ذات پر بھروسہ رکھیں اور ان باتوں کی طرف توجہ نہ دیں اور اس وہم کی بنا پر کسی کی دل آزاری نہ کریں ۔ تاہم ! بعض اوقات کچھ لوگوں کی نظر لگ جاتی ہے ، جس سے نقصان ہونے کا احتمال ہوتا ہے ، اس لیے ہر مسلمان کو یہ چاہیے کہ جب وہ کسی دوسرے کے مال و جان و غیرہ کسی شے کو جائز نظر سے دیکھے اور وہ اس کو اچھی لگے تو اس کے لیے دعائے برکت مثلا : " بارک اللہ " وغیرہ کلمات کہہ دے کہ حدیث پاک میں حکم دیا گیا ہے کہ "جب تم کسی چیز کو پسند کرو تو اس کے لیے برکت کی دعا کرو ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.