Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
والدہ بھتیجے کے ساتھ عمرہ کے لئے جارہی ہوں تو ساتھ بیٹی جا سکتی ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3858-WAT
Question
والدہ بھتیجے کے ساتھ عمرہ کے لئے جارہی ہوں تو ساتھ بیٹی جا سکتی ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میری امی اپنے بھتیجے کے ساتھ مدینے شریف جا رہی ہیں تو میں اپنی امی کے ساتھ جا سکتی ہوں ؟ جواب
Answer (beginning)
شرعی مسافت یعنی 92 کلو میٹریا اس سے زائد کا راستہ ہو تو آپ کا اپنی امی کے بھتیجے کے ساتھ سفر پر جانا جائز نہیں کیونکہ وہ آپ کے لیے نامحرم ہے اور کسی بھی عورت کو شوہر یا محرم کے بغیر شرعی سفر کرنا، جائز نہیں ، خواہ وہ سفر حج و عمرہ کی غرض سے ہو یا کسی اور مقصد کے لیے ہو بلکہ خوف فتنہ کی وجہ سے تو علماء ایک دن کی راہ بغیر محرم بھی کے جانے سے منع کرتے ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، أن تسافر سفرا يكون ثلاثة أيام فصاعدا، إلا وسعها أبوها، أو ابنها، أوزوجها، أو أخوها ، أو ذو محرم…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.