Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دوسرے عمرے سے پہلے غسل کرنے کا حکم

Fatwa no.
3855-WAT
Issued
23 ذو القعدة الحرام 1446ھ /21 مئی 2025ء

Question

دوسرے عمرے سے پہلے غسل کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک عمرہ کا حلق کروانے کے بعد اگر اسی وقت فوراد و سر اعمرہ کرنا ہو تو کیا غسل ضروری ہوگا یا نہیں ؟ جواب 11

Answer (beginning)

پہلے عمرے کا احرام ہو یا دوسرے کا ، ہر احرام کے لیے سنت یہ ہے با طہارت احرام باندھا جائے اور اس کے لیے غسل زیادہ بہتر ہے اور اگر کسی نے غسل کی جگہ وضو کر لیا تو یہ بھی کفایت کرے گا ۔ در مختار میں ہے و شرط لنيل السنة ان يحرم وهو على طهارته "ترجمہ : سنت پانے کے لیے شرط ہے کہ وہ با طہارت احرام باندھے ۔ (الدر المختار مع ردالمختار، ج 02، ص 481، دارالفکر، بیروت) لباب المناسک اور اس کی شرح میں احرام کی سنتوں کے بیان میں ہے "(والغسل) وهوسنة للاحرام مطلقاً(اوالوضوء) اى فى النيابة عنه " ترجمہ : غسل کرنا ، اور یہ مطلقاً احرام کی سنت ہے یا وضو کرنا، یعنی غسل کے قائم مقام کے طور پر ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.