Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کچا بچہ گرا دینے والے جانور کی قربانی کا حکم؟
- Answered by
- مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3846-WAT
Question
کچا بچہ گرا دینے والے جانور کی قربانی کا حکم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میرے پاس ایک بحری ہے ، جو تین سال سے میرے پاس ہے ، وہ حاملہ ہو تو وقت سے پہلے بچہ پھینک دیتی ہے ، اس کے علاوہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ، کیا میں اس بکری کی قربانی کر سکتا ہوں ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر اس میں قربانی کی تمام شرائط پائی جاتی ہوں ، تو اس بحری کی قربانی جائز ہوگی کہ نا مکمل بچہ گرا دینا قربانی کے معاملے میں عیب شمار نہیں ہوگا، فقہائے کرام نے یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر جانور بچہ پیدا کرنے سے عاجز ہو یعنی بانجھ ہو، تو بھی اس کی قربانی جائز ہوتی ہے ، تو جب سرے سے حمل نہ ہونا، قربانی کے معاملے میں عیب نہیں تو حمل ہو کر گر جانا بھی قربانی کے معاملے میں عیب نہیں ہوگا ۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے " و یجوز۔۔۔۔ العاجزة عن الولادة لكبر سنها "ترجمہ : جو عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے ولادت سے عاجز ( بانجھ ) جانور کی قربانی جائز ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.