Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شوہر کے انتقال کے بعد سسر کا بہو سے نکاح کرنے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد نور المصطفی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3844-WAT
Question
شوہر کے انتقال کے بعد سمر کا بہو سے نکاح کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) شوہر کے انتقال کے بعد، اس کی بیوی سے شوہر کا والد یعنی عورت کا سر ، نکاح کر سکتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
سر اپنی ہو سے کسی صورت بھی نکاح نہیں کر سکتا، اس لیے کہ نکاح کرتے ہی عورت پر اپنے خاوند کا حقیقی والد یعنی سر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتا ہے ، لہذا شوہر کی وفات ہو جانے یا شوہر کے طلاق دے دینے کے بعد بھی سر اپنی بہو کا محرم ہی رہے گا۔ قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے : (وَحَلَابِلُ اَبْنَا بِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ) ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیاں ( تم پر حرام ہیں) ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.