Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پانی کب مستعمل ہوتا ہے؟

Fatwa no.
3839-WAT

Question

پانی کب مستعمل ہوتا ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا پانی جسم سے جدا ہونے کے بعد مستعمل ہوتا ہے؟ کیا وضو و غسل میں اعضا دھوتے ہوئے ہر بال پر نیا (غیر مستعمل) پانی بہانا ہوگا ؟ یا ایک عضو دھوتے ہوئے ایک بار لیا ہوا پانی جب تک جسم سے جدا نہ ہو، جتنے بالوں پر بہا سب کے دھلنے کے لئے کافی ہو گا ؟ جواب

Answer (beginning)

پانی جب تک عضو پر بہہ رہا ہے وہ مستعمل نہیں ہوتا بلکہ جب نجاست حکمیہ دور کر کے یا قربت قائم کر کے عضو سے جدا ہوتا ہے ، تب مستعمل ہوتا ہے اور غسل میں پورا جسم ایک عضو کے قائم مقام ہوتا ہے لہذا غسل میں جب جسم سے جدا ہو گا تب مستعمل ہوگا، لہذا عضوی جسم پر بہایا جانے والا پانی ، عضو یا جسم کے جس جس حصے پر بہا اس کو دھونے کے لیے کافی ہوگا، عضو یا جسم کے ہر ہر بال پر نیا پانی ڈالنا ضروری نہیں کہ یہ بلا وجہ حرج میں پڑنے والی بات ہے ، جس کا بندے سے شرعاً مطالبہ نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.