Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دم میں کونسا جانور ذبح کریں اور کہاں؟

Fatwa no.
3838-WAT

Question

وم میں ذبح کیے جانے والے جانور کی تفصیل دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) دم میں کون سا جانور ذبح کیا جاتا ہے اور اسے کہاں ذبح کرنا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

حج یا عمرے کے احرام کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے جو دم لازم آتا ہے ، اس میں بھیڑیا بکری وغیرہ جانور ذبح کیے جاتے ہیں، اسی طرح گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ بھی دیا جا سکتا ہے ، اور یہ سب جانورا نہیں شرائط کے ہوں، جن شرائط کے قربانی میں ہونا ضروری ہوتا ہے ، اور ان کو حدود حرم میں ذبح کرناضروری ہوتا ہے ۔ رد المحتار میں ہے " (قوله الواجب دم) فسره ابن مالك بالشاة --- قلت: وفي أضحية القهستاني: لو ذبح سبعة عن أضحية ومتعة وقران وإحصار وجزاء الصيد أو الحلق والعقيقة والتطوع فإنه يصح في ظاهر الأصول “ترجمہ : (مصنف کا قول : دم واجب ہوگا) دم کی تفسیر ا بن ملک نے بحری سے کی ہے اور قہستانی کی کتاب الاضحیہ میں ہے :…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.