Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ٹیکس کی رقم کو زکوٰۃ میں شمار کرنا
- Answered by
- مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3826-WAT
Question
ٹیکس کی رقم کو زکوۃ میں شمار کرنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور میری تنخواہ سے بہت زیادہ ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے، تو کیا میں اس کٹنے والی رقم کو زکاۃ شمار کر سکتا ہوں ؟ جواب
Answer (beginning)
ٹیکس کی مد میں کائی جانے والی رقم کو بطور زکاۃ شمار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ زکوۃ کی ادائیگی کے لئے مال زکوۃ کا مستحقین زکواۃ کو مالک بنانا ضروری ہوتا ہے ، جبکہ ٹیکس کی مد میں کائی جانے والی رقم میں اس کا لحاظ نہیں ہوتا ۔ زکوۃ کا رکن فقیر شرعی کو مالک بنانا ہے ، جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے : ” وقد امر اللہ تعالی الملاک بایتاء الزكاة لقوله عز وجل وَاتُوا الزَّكوة والايتاء هو التمليک“ ترجمہ : اللہ تعالی نے مال والوں کو زکوۃ دینے کا حکم دیا ہے ، چنانچہ فرمان باری عزوجل ہے : ﴿وَأتُوا الزَّكوة ( یعنی زکوۃ دو) اور ایتاء یعنی دینے کا مطلب مالک کر دینا ہی ہوتا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.