Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پانی میں بدبودار پانی مکس ہو جائے تو اس کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3825-WAT
Question
پانی میں بد بو دار پانی مکس ہو جائے تو اس کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر پانی میں بدبودار پانی مکس ہو جائے اور اس کی وجہ سے نہ تو پانی کی رنگت بدلے، نہ ذائقہ بدلے ، نہ اس میں بدبو آ رہی ہو ، تو کیا وہ سارا پانی ناپاک ہو جائے گا ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر وه بد بودار پانی ناپاک نہیں تھا، تو دوسرے پانی میں مکس ہونے کی وجہ سے اس پانی کو نا پاک نہیں کرے گا اور اگر وہ پانی ناپاک تھا، تو دوسرے پانی میں مکس ہونے کی صورت میں اس کی پاکی و ناپاکی کی دوصور تیں ہیں : (1) اگر وہ پانی وہ دردہ (یعنی کل پیمائش دو سو پچیس اسکوائر فٹ) نہ ہو اور جاری بھی نہ ہو، تو اس میں تھوڑا سا ناپاک پانی یا نا پاک چیز پڑ جانے سے وہ کل پانی ناپاک ہو جائے گا ، اگر چہ اس میں ناپاکی کا کوئی اثر (رنگ، بو، ذائقہ ظاہر نہ ہوا ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.