Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شراب بیچنے والے کو دکان کرایہ پر دینے کا حکم؟
- Answered by
- مولانا محمد علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3824-WAT
- Issued
- 14 ذو القعدة الحرام 1446هـ / 12 مئی 2025ء
Question
شراب بیچنے والے کو دکان کرایہ پر دینے کا حکم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) شراب بیچنے والے کو دکان کرائے پر دینا شرعا کیسا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
شراب بیچنا سخت گناہ و حرام کام ہے لیکن اگر کوئی شخص کسی کو دوکان کرائے پر دے اور اس دینے سے اس کے حرام کام میں تعاون کی نیت نہ ہو اور لینے والا اس میں شراب بیچے اور اس کے سبب کوئی فتنہ بھی نہ ہو تو یہ اس کا اپنا فعل ہے ، جس کا گناہ کرائے پر دینے والے کے ذمے نہیں آئے گا ۔ ہاں ! اگر کرائے پر دینے والا اس کے شراب بیچنے والے کام میں اس کی مدد کی نیت کرے تو ایسی صورت میں مالک دکان اپنی اس بری نیت کی سبب گناہ گار ہوگا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.