Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچی کا نام فلذہ رکھنا

Answered by
مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
Fatwa no.
3822-WAT

Question

فلذه(Filza) نام رکھنا کیسا ؟ جواب بچی کا نام فلذہ رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

فلذه " نام رکھ سکتے ہیں، اس کے معانی ہیں : "گوشت یا جگر یا سونے چاندی کا ٹکڑا ۔ " البتہ ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام کسی صحابیہ یا نیک خاتون کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، نیز امید ہے کہ ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال رہے گی۔ حدیث پاک میں ہے "تسموا خیار کم "ترجمہ : نیک ہستیوں کے نام پر نام رکھو۔ مسند الفردوس الدیلمی، جلد 02، صفحه 58، مطبوعہ : بیروت) فلذہ کا معنی بیان کرتے ہوئے تاج العروس اور المعجم الوسیط میں ہے : "(الفلذة) القطعة من الكبد و اللحم والذهب والفضة "ترجمہ : فلذه : گوشت، جگر اور سونے چاندی کا ٹکڑا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.