Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عیسائی عورت مسلمان ہو جائے تو اس کے نکاح کا حکم
Question
یسائی عورت مسلمان ہو جائے تو اس کے نکاح کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر عیسائی عورت مسلمان ہو جائے ، لیکن اس کا عیسائی شوہر مسلمان نہ ہو تو اس کا نکاح جو عیسائی لڑکے سے ہوا تھا وہ ٹوٹ جائے گا یا باقی رہے گا ؟ جواب
Answer (beginning)
اس کے بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ اگر عیسائی عورت کسی عیسائی مرد کے نکاح میں ہو اور عورت مسلمان ہو جائے لیکن اس کا شوہر مسلمان نہ ہو اور وہاں قاضی اسلام موجود ہو تو قاضی اس کے عیسائی شوہر پر اسلام پیش کرے گا، اگر وہ اسلام لے آئے تو بہتر ورنہ انکار کرے یا خاموش رہے تو ان دونوں کے درمیان تفریق (علیحدگی) کر دی جائے گی اور یہ تفریق طلاق شمار ہوگی ، اور جس جگہ قاضی اسلام نہ ہو ، وہاں اگر کوئی عیسائی عورت اسلام لے آئے لیکن اس کا عیسائی شوہر اسلام نہ لائے تو عورت قبول اسلام کے وقت سے تین حیض گزرنے تک انتظار کرے ، اگر اس دوران اس کا شوہر مسلمان ہو جاتا ہے تو وہ اس کے نکاح میں بدستور رہے گی لیکن جب تک…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.