Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کزن فیملی سے ہاتھ ملانے کا حکم

Answered by
مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
Fatwa no.
3817-WAT

Question

کیا کزن فیملی سے ہاتھ ملا سکتے ہیں ؟ جواب کزین فیملی سے ہاتھ ملانے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

فیملی مثلائی چا کے بیٹے ، ماموں کے بیٹے وغیرہ، غیر محارم میں سے ہیں اور غیر محرموں سے عورت کا ہاتھ ملانا ، ناجائز و گناہ ہے ۔ ہاں کوئی بہت بوڑھی عورت ہو کہ جس سے مصافحہ کرنے میں شہوت کا اندیشہ نہ ہو تو اس کے احکام جدا ہوتے ہیں ۔ نامحرم سے ہاتھ ملانے اور چھونے کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لأن يطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمس امرأة لا تحل لہ “ ترجمہ : تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی پھودی جائے ، یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ نامحرم خاتون کو چھوئے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.