Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زمین کے ٹھیکہ میں گندم کو اجرت مقررنا
- Answered by
- مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3815-WAT
Question
زمین کے ٹھیکہ میں گندم کو اجرت مقررنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ہمارے ہاں زمین اس طرح ٹھیکہ پر دی جاتی ہے کہ سال کے بعد اس پر کاشت کرنے والا شخص زمین کے مالک کو ایک ایکڑ زمین پر 50 کلو گندم دے گا، تو کیا اس طرح زمین دینا جائز ھے ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں زمین کے کرائے میں رقم کی بجائے گندم دینا جائز ہے بشر طیکہ گندم خاص اسی زمین کی فصل میں سے دینا طے نہ ہو، بلکہ مطلق گندم کا مخصوص وزن طے کیا جائے اور اس کے اوصاف بیان کر دئیے جائیں، اگر چہ بعد میں ٹھیکے پر لینے والا اسی زمین کی فصل سے ادا کر دے ۔ العقود الدریہ میں ہے "سئل قارئ الہدایۃ ہل یجوز استئجار أرض للزراعة بكذا إردب غلة أم لا فأجاب نعم يجوز إذا كانت الأجرة مشارا إليها أو موصوفة في ذمته ولا تكون من الغلة التي تخرج من زرع الأرض المستأجرة " ترجمہ : علامہ قاری الہدایہ سے سوال کیا گیا کہ کیا کاشت کرنے کیلئے زمین کو غلہ کے ایک از وب ( یعنی 24 صاع کے ایک بڑے پیمانے) کے عوض…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.