Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کسی شخص کا نام اللہ رکھنا

Fatwa no.
3813-WAT

Question

کسی شخص کا نام اللہ “ رکھ سکتے ہیں ؟ جواب کسی شخص کا نام اللہ رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

کسی شخص کا نام " اللہ " رکھنا، سخت حرام و گناہ اور کفر ہے۔ مجمع الانہر میں ہے ”أطلق على المخلوق من الأسماء المختصة بالخالق نحو القدوس والقيوم والرحمن و غیرها یکفر“ ترجمہ : کوئی شخص خالق عزوجل کے ساتھ مخصوص اسماء جیسے قدوس، قیوم، رحمن وغیرہ میں سے کسی نام کا مخلوق پر اطلاق کرے تو اس کی تکفیر کی جائے گا ۔ ( مجمع الانہر، ج 1 ، ص 690، داراحیاء التراث العربی، بیروت) سیدی علامہ عبد الغنی نابلسی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں : ” واعلم أن التسمي بهذا الاسم حرام وكذا التسمي بأسماء الله تعالى المختصة به كالرحمن والقدوس والمهيمن وخالق الخلق ونحوها ترجمہ : اس نام (ملک الاملاک حقیقی استغراقی معنی کا لحاظ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.