Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسافت شرعی پر واقع شہر میں جاب کرنے والے کے لیے قصر کا حکم
- Answered by
- مولانا اعظم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3812-WAT
Question
مسافت شرعی پر واقع شہر میں جاب کرنے والے کے لیے قصر کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میرا دوست لاہور کا رہائشی ہے وہ اسلام آباد جاب کرتا ہے اور ہفتے میں پانچ دن اسلام آباد اور دو دن لاہور گزارتا ہے تو اس کے لئے نمازوں کا کیا حکم ہو گا کہ قصر پڑھنی پڑے گی یا مکمل ؟ اسلام آباد صرف جاب کے لیے جانا ہو تا ہے اگر جاب ختم تو وہاں جانا بھی ختم اور لاہور سے اسلام آباد مسلسل جانا ہو تا ہے درمیان میں کہیں کسی کام کے لیے رکنا نہیں ہوتا ۔ جواب
Answer (beginning)
دریافت کردہ صورت میں جب اسلام آباد آپ کے دوست کا وطن اصلی نہیں یعنی اس جگہ کو انہوں نے اپنا مستقل مسکن ( یعنی رہائش) نہیں بنایا ، صرف جاب کی غرض سے ہر ہفتے چار پانچ دن کے لئے وہاں جاتے ہیں تو وہ اسلام آباد جاتے ہوئے اور وہاں سے آتے ہوئے اور پندرہ دن سے کم جتنے دن وہاں رکتے ہیں، ان سب دنوں اور اوقات کی نمازیں قصر ادا کریں گے ۔ فقہ حنفی کے مشہور متن المختار میں ہے : "و یصیر مسافرا إذا فارق بيوت المصرقاصدا مسيرة ثلاثة أيام ولياليها بسير الإبل ومشى الأقدام ولا يزال على حكم السفر حتى يدخل مصره أوينوي الإقامة خمسة عشر يوما في مصر أو قرية “ترجمہ : آدمی اس وقت مسافر ہو گا کہ جب وہ اپنے شہر کے گھروں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.