Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام سے مشورہ کرنے سے پہلے صدقہ دینا
Question
نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام سے مشورہ کرنے سے پہلے صدقہ دینا ، دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا قرآن کہتا ہے کہ جب لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشورہ کرنے آتے تھے تو پہلے کچھ (تحفہ یا صدقہ دیتے تھے ؟ جواب
Answer (beginning)
جی ہاں ! قرآن شریف میں یہ حکم اللہ رب العزت نے اہل ایمان کو دیا تھا، لیکن پھر منسوخ فرما دیا اور بغیر صدقہ دئیے مشورہ کرنے کی اجازت عطا فرمادی ۔ قرآن پاک میں ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِمُوا بَيْنَ يَدَى نَجُوكُمْ صَدَقَةً ذَلِكَ خَيْرٌ لَكُمْ وَ أَطْهَرُ فَإِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ) ترجمہ کنز الایمان : اے ایمان والو جب تم رسول سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو یہ تمہارے لیے بہتر اور بہت ستھرا ہے پھر اگر تمہیں مقدور نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.