Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عورت کا اپنے بیٹے کے سسر سے نکاح کرنا

Answered by
مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
Fatwa no.
3807-WAT

Question

عورت کا اپنے بیٹے کے سر سے نکاح کرنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میری سگی ماں ہوہ ہو چکی ہیں اور میری بیوی کی سگی ماں فوت ہو چکی ہیں، تو کیا میری ماں اور میرے سر کی شادی ہو سکتی ہے ؟ مزید برآں ہمارے میاں بیوی کے رشتے میں تو کوئی حرج نہیں ہوگا ۔ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ کی والدہ کا آپ کے سر سے نکاح ہو سکتا ہے ، جبکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو اور اس کی وجہ سے آپ کے نکاح پر بھی فرق نہیں پڑے گا۔ فقہائے کرام نے بیان فرمایا ہے کہ بیٹے کی ساس سے نکاح کیا جاسکتا ہے تو جس طرح بیٹے کے والد کا بیٹے کی ساس سے نکاح ہو سکتا ہے تو اسی طرح بیٹے کی والدہ کا بیٹے کے سر سے بھی نکاح ہو سکتا ہے۔ ردالمحتار میں ہے ”قال الخير الرملي: ولا تحرم۔۔۔ أم زوجة الابن “ترجمہ : علامہ خیر الدین رملی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : بیٹے کی بیوی کی ماں سے نکاح کرنا حرام نہیں ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.