Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوٰۃ کی رقم علیحدہ کردینے سے زکوۃ اداہوجائے گی یا نہیں؟

Answered by
ابو شخص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
Fatwa no.
3804-WAT

Question

زکوة کی رقم علیحدہ کر دینے زکوۃ ادا ہو جائے گی یا نہیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) زکوۃ کے فرض ہونے کے بعد اگر کوئی شخص زکوۃ کی رقم الگ کر دے ، لیکن ابھی تک مستحق کو نہ دے ، تو صرف رقم الگ کرنے سے زکاۃ ادا ہو جائے گی، یا پھر زکاۃ کی ادائیگی اُس وقت مکمل سمجھی جائے گی جب وہ رقم کسی مستحق کو واقعی دے دی جائے ؟ جواب

Answer (beginning)

زکوۃ کی رقم کو صرف علیحدہ کر کے رکھ دینے سے زکوۃ ہر گزارا نہیں ہوتی بلکہ جب مالِ زکوۃ کو شرعی فقیر کے قبضے میں دے کر اسے مالک بنا دیا جائے تو اس وقت شرعا ز کوۃ ادا ہوتی ہے اور آدمی اپنے فرض سے بری الذمہ ہوتا ہے ۔ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے "ولا يخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء "ترجمہ : اور زکوۃ کی رقم کو علیحدہ کر دینے سے بری الذمہ نہیں ہوگا، بلکہ فقیر کو ادا کرنے سے ہوگا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.