Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

طواف کے نفلوں میں تاخیر کا حکم

Answered by
مولانا محمد سعید عطاری مدنی
Fatwa no.
3800-WAT

Question

طواف کے نظموں میں تاخیر کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) عمرہ کرنے والے نے طواف کی دورکعتیں نہیں پڑھیں کیونکہ مکروہ وقت تھا اور عمرہ مکمل کرلیا، اس کے دو دن بعد دور اور کعتیں حرم میں پڑھیں تو عمرہ ہو گیا یا دم لازم ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

طواف کے نوافل مؤخر کرنے میں دم لازم نہیں ہوتا ، اور عمرے میں بھی کوئی خلل نہیں آتا ، لہذا اگر باقی افعال عمرہ صحیح طرح ادا کئے تھے تو عمرہ ادا ہو گیا، البتہ طواف کے نوافل میں بلا عذر تاخیر کرنا خلاف سنت و مکروہ ہے ، لہذا چاہیے تو یہ تھا کہ جب مکروہ وقت ختم ہو گیا تھا تو اگر کوئی عذر نہیں تھا تو جلد از جلد نوافل ادا کر لیے جاتے ، یہاں تک علمائے کرام نے فرمایا کہ : اگر عصر کے بعد طواف کیا تھا تو اب مغرب کے فرض پڑھنے کے بعد پہلے طواف کے نوافل پڑھے پھر مغرب کی سنتیں پڑھے ، اور اگر کسی معقول عذر کی وجہ سے اتنی تاخیر ہوئی تو کوئی حرج نہیں اور اگر بلاعذر اتنی تاخیر کی تو خلاف سنت اور مکر وہ ہوالیکن…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.