Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زمین پر بیٹھ کر مدنی قاعدہ پڑھنے والے کے پاس کرسی وغیرہ پر بیٹھنا
- Answered by
- مولانا محمد آصف عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3799-WAT
- Issued
- 09 ذو القعدة الحرام 1446ھ / 07 مئی 2025ء
Question
زمین پر بیٹھ کر مدنی قاعدہ پڑھنے والے کے پاس کرسی وغیرہ پر بیٹھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص زمین یا چٹانی پر ہٹ کر نی قاعدہ پڑھ رہا ہو تو اب کوئی دوسرا شخص اس کے پاس کرسی یا صوفے وغیرہ پر اونچا بیٹھ سکتا ہے یا نہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر کوئی شخص نیچے بیٹھ کر قرآن پاک ، مدنی قاعدہ یا کوئی اور دینی کتاب پڑھ رہا ہو ، تو اس صورت میں اوپر کرسی ، صوفے وغیرہ پر بیٹھنا بے ادبی ہے ، لہذا ایسا کرنا شرعاً ممنوع ہے ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ بعض علماء چارپائی پر لیٹے یا بیٹھے ہوتے ہیں اور لڑکے کتابیں لئے ہوئے جن میں بسم اللہ شریف و دیگر آیات قرآنیہ ہوتی ہیں نیچے چٹائی پر بیٹھے رہتے ہیں، پس یہ فعل کیسا ہے ؟ تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا : "ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ نفس حروف قابل ادب ہیں اگر چہ جدا جدا لکھے ہوں ۔ ۔ ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.