Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچے کو دین کے لئے وقف کرنے کی منت کا حکم

Answered by
مولانا محمد آصف عطاری مدنی
Fatwa no.
3798-WAT

Question

بچے کو دین کے لئے وقف کرنے کی منت کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میں نے اللہ تعالی سے ایک منت مانگی تھی کہ اگر میر الڑکا پیدا ہوا تو میں اسے دین کے لیے وقف کر دوں گا تو اب اللہ کے کرم سے میرا بیٹا پیدا ہو گیا ہے جو ابھی تقریبا چھ سات سال کا ہے اب وہ اسکول بھی جاتا ہے اور آگے میرا ارادہ اسے ایک اچھا عالم دین بنانے کا ہے ، عالم بنانے کے بعد کیا ہم اسے ڈاکٹر یا انجینئر بنا سکتے ہیں اور یہ بنانے پر کیا وہ دین میں وقف کرنا کہلائے گا ؟ کس طرح سے ہم اپنی منت پوری کریں ؟ جواب

Answer (beginning)

بیٹے کو دین کے لیے وقف کرنے کی منت ماننا، اگرچہ شرعی منت نہیں کہ اسے پورا نہ کرنے پر آپ گناہ گار ، ہوں، لیکن یہ اللہ پاک سے ایک وعدہ ہے ، اور جو وعدہ و نیت اللہ تعالی کے لیے کی ہو، اسے پورا کرنا ہی چاہیے ، لہذا آپ کو بھی اللہ پاک سے کیا ہوا یہ وعدہ پورا کرنا چاہیے اور بیٹے کو دین کے لیے وقف کرنے سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی دین کی خدمت میں صرف کرے گا، لہذا آپ اپنے بیٹے کو عالم دین بنائیں، اور پھر اس کے بعد اسے دینی کاموں ( تبلیغ دین، درس نظامی کی تدریس ، تصنیف، فتوی نویسی وغیرہ) میں لگا دیں ۔ اسے ڈاکٹر یا انجینئر وغیرہ نہ بنائیں، کیونکہ یہ شعبے ، خدمت دین کے شعبے نہیں ہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.