Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اولیاء اللہ کے لئے نوافل ادا کرنا
- Fatwa no.
- 5
Question
اولیاء اللہ کے لئے نوافل ادا کرنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا داتا صاحب کے لیے نوافل ادا کیے جاسکتے ہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
داتا صاحب کے لیے نوافل ادا کیے جاسکتے ہیں کہ کسی کے لیے نوافل پڑھنا در حقیقت اسے نوافل کا ثواب پہنچانا ہے اور مسلمان زندہ ہو یا فوت شدہ ، اسے کسی بھی نیک کام مثلاً نماز، روزہ ، صدقہ وغیرہ کا ثواب ایصال کرنا جائز ہے ۔ نفل نماز کا ثواب بھی ایصال کیا جا سکتا ہے ، جیسا کہ سنن ابی داؤد میں ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حج کو جانے والوں سے فرمایا : "من يضمن لي منكم ان يصلى لي في مسجد العشاررکعتین، او اربعا، ويقول هذه لابی هریرة تم میں سے کون مجھے اس چیز کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ مسجد عشار میں میرے لئے دو یا چار رکعت پڑھے اور کہے یہ ابوہریرہ کے لئے ہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.