Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچی کا نام"اسماء"رکھنا
- Fatwa no.
- 3793-WAT
Question
بچی کا نام "اسماء " رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا ہم اپنی نومولود بیٹی کا نام " اسماء " رکھ سکتے ہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
جی ہاں ! آپ اپنی بیٹی کا نام " اسماء " رکھ سکتے ہیں، بلکہ یہ بہتر ناموں میں سے ہے کہ یہ صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کا نام ہے اور حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔ " اسماء " نامی صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کے متعلق الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے ”أسماء بنت یزید۔۔۔ کان يقال لها خطيبة النساء. روت عن رسول الله صلى الله عليه وسلّم عدة أحادیث ۔۔۔ اسماء بنت سعید۔۔۔ لھا ولأبيها صحبة۔۔۔ أسماء بنت قرط۔۔۔ ذكرها ابن سعد في المبايعات ترجمہ : (1) اسماء بنت یزید، انہیں عورتوں کی خطیب کہا جاتا تھا ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.