Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اقامت ہوجانے کے بعد گفتگو کرنے کا حکم

Answered by
مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
Fatwa no.
3792-WAT

Question

اقامت ہو جانے کے بعد گفتکو کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اقامت ہونے کے بعد امام کا گفتگو کرنا کیسا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

اقامت ہو جانے کے بعد بغیر ضرورت کلام کرنا مکروہ ہے اور کسی دینی معاملے کے متعلق کلام کرنے (جیسے نماز کے آداب بتانے یا صفیں درست کرنے کا کہنے وغیرہ) میں کوئی کراہت نہیں ہے، بلکہ اقامت ہو جانے کے بعد صفیں درست کرنے کا کہنا تو احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : " اقیمت الصلاة ورسول الله صلى الله عليه وسلم نجي في جانب المسجد "ترجمہ : نماز (عشاء) کی تکبیر کہی گئی اور رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں ایک شخص سے سر گوشی فرما رہے تھے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.