Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حج کی قربانی اپنے ملک میں کرنا

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جب بندہ حج تمتع کرتا ہے، تو دس ذی الحج کو اس نے سعودیہ میں قربانی کرنی ہوتی ہے ، تو ایک ذہن یہ بنتا ہے کہ قربانی ہم اپنے ملک میں دس ذی الحج کو کر لیں، ویسے بھی نار ملی تو عید کے دن قربانی ہوتی ہے، تو کیا ہم دس ذی الحج کی قربانی اپنے ملک میں کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

حج کی قربانی کے جانور کو حدود حرم میں ذبح کرناضروری ہے۔ لہذا حج کی قربانی کو حدود حرم کے علاوہ کسی دوسری جگہ کرنے سے حج کی قربانی کا واجب ادانہ ہو گا۔ ہے۔ درر الحکام میں ہے " تعین الحرم للكل من الهدايا " ترجمہ: تمام قسم کے حج کی قربانی کے لیے حدود حرم متعین اس کے تحت حاشیہ شرنبلالی میں ہے " فلا تجزیہ لو ذبحها في غيرہ "ترجمہ : اگر وہ حرم کے علاوہ کہیں اور قربانی کے جانور کو ذبح کرے گا، تو یہ قربانی کفایت نہیں کرے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.